FAQ | Takaful Pakistan Limited

انسان کا کوئی بھی عمل قضاء و قدر کو نہیں بدل سکتا۔ کسی شخص کے پاس انشورنس یا تکافل کی پالیسی ہونے سے مستقبل کے واقعات و حوادث پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ تاہم ہمیں اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ ہم تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بعد اللہ تعالی کی ذات پر بھروسہ کریں جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے: ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بدو کو دیکھا کہ وہ اپنے اونٹ کو باندھے بغیر کہیں جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوال پوچھا کہ تم نے اپنے اونٹ کو کیوں نہیں باندھا؟ اس نے جواب دیا کہ میں اسے اللہ کے بھروسہ (یعنی توکل)پر چھوڑ رہا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر ارشاد فرمایا: پہلے اپنے اونٹ کو باندھو پھر اللہ پر توکل کرو۔ ( صحیح ترمذی، 1981

ورلڈ مسلم لیگ ورلڈ مسلم لیگ کی فقہ کونسل کی قرار داد (1978/1398) اور OIC کی فقہ کونسل (1985/1405) نے جدہ میں منعقدہ اپنے اجلاس میں یہ قرار داد منظور کی ہے کہ موجودہ طریقہ کار کے مطابق مروجہ انشورنس حرام ہے اور باہمی تعاون پر مبنی انشورنس (یعنی تکافل) حلال اور شرعی اصولوں کے عین مطابق ہے۔ اس بناء پر مروجہ انشورنس مسلمانوں کیلئے ممنوع ہے (بوجہ ربا، قمار اور غرر پر مشتمل ہونے کے)۔ اس کے برعکس تکافل شرعی اصولوں کے مطابق خطرات سے تحفظ فراہم کرتی ہے جس کی بنیاد تعاون، بھائی چارہ، تقوی اور اخلاقی اقدارپر رکھی گئی ہے۔ اخلاقی اقدارپر رکھی گئی ہے۔

تکافل کا لفظ عربی کے لفظ کفالہ سے نکلا ہے جس کے معنی گارنٹی دینے، مدد کرنے کے ہیں۔ تکافل سے مراد باہمی تحفظ اور مشترکہ گارنٹی ہے۔ عملی طور پر اس سے مراد شرکاء کا باہمی رضامندی کے ساتھ ایک فنڈ میں پیسہ ڈالنا ہے تاکہ کسی حادثہ کی صورت میں متاثرہ ممبر کے نقصانات کی مشترکہ طور پر تلافی کی جاسکے۔

غرر کو تکافل کے معاہدے سے بلکلیہ ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن چونکہ یہ معاہدہ عقد تبرع ہے اسلئے اس میں غرر قابل تحمل ہے۔ اسکے برخلاف انشورنس کا معاہدہ عقد معاوضہ ہے جس میں غرر فاحش قابل تحمل نہیں لہذا بوجہ غررِ فاحش انشورنس کا معاملہ فاسد ہے ۔ انشورنس کی تمام اقسام جوے کی قبیل سے ہیں جو کہ اسلام میں ممنوع ہے۔ رسک یا خطرہ کو ہم خالص رسک اور قیاسی رسک میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ خالص رسک کی جہات دو ہوتی ہیں یعنی نقصان و عدم نقصان مثلا آپ کی مملوکہ شئ آگ لگنے کی صورت میں یا توجل جائیں گی یا پھرنہیں جلیں گی۔ یہ خالص رسک ہی انشورنس و تکافل کا موضوع بحث ہے۔ اسکے برخلاف قیاسی رسک کی تین جہات ہوتی ہیں یعنی نقصان، عدم نقصان اور نفع/فائدہ۔ مثال کے طور پر نیا کاروبار شروع کرنا یا گھڑ دوڑ پر شرط لگانا۔ یہ قیاسی رسک انشورنس یا تکافل کے ذریعے کور نہیں ہوتا۔ تکافل کا نظام انڈمنٹی (Indemnity)کے اصول پر مبنی ہےجو کہ ممبر کو صرف اسکے نقصان کی صورت میں تحفظ فراہم کرتا ہے۔ نقصان کی تلافی شئ کی مرمت، اسکی تبدیلی یا متعین رقم کی صورت میں کی جاسکتی ہے۔

رسک یا خطرہ کو ہم خالص رسک اور قیاسی رسک میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ خالص رسک کی جہات دو ہوتی ہیں یعنی نقصان و عدم نقصان مثلا آپ کی مملوکہ شئ آگ لگنے کی صورت میں یا توجل جائیں گی یا پھرنہیں جلیں گی۔ یہ خالص رسک ہی انشورنس و تکافل کا موضوع بحث ہے۔ اسکے برخلاف قیاسی رسک کی تین جہات ہوتی ہیں یعنی نقصان، عدم نقصان اور نفع/فائدہ۔ مثال کے طور پر نیا کاروبار شروع کرنا یا گھڑ دوڑ پر شرط لگانا۔ یہ قیاسی رسک انشورنس یا تکافل کے ذریعے کور نہیں ہوتا۔ تکافل کا نظام انڈمنٹی (Indemnity)کے اصول پر مبنی ہےجو کہ ممبر کو صرف اسکے نقصان کی صورت میں تحفظ فراہم کرتا ہے۔ نقصان کی تلافی شئ کی مرمت، اسکی تبدیلی یا متعین رقم کی صورت میں کی جاسکتی ہے۔

اکثر انشورنس کمپنیز اسٹاک کمپنیز ہیں جن کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ کمائی کرنا ہے۔ چونکہ حصص یافتگان کا مفاد پالیسی ہولڈر کے مفاد سے ٹکراتا ہے اسلئے کمپنیاں حصص یافتگان کے مفاد کا خیال کرتے ہوئے کبھی پالیسی کی قیمت بڑھا کر، اور کبھی کلیم کو مسترد کر کے زیادہ سے زیادہ کمانے کی کوشش کرتی ہیں۔ اسکے بر خلاف تکافل کمپنیاں باہمی تعاون کے تصور پر قائم کی گئی ہیں جن کا مقصد اپنی بقاء و استحکام کے ساتھ ساتھ معاشرے کی فلاح و بہبود بھی ہے نہ کہ خالص پیسہ کمانا۔ یہی وجہ ہے کہ تکافل مضاربہ ماڈل کے تحت فنڈ میں بچ جانے والے سرپلس (منافع) کو حصص یافتگان اور شرکاء میں منصفانہ طور پر برابر سرابر تقسیم کر دیا جاتا ہے اور تکافل وکالہ ماڈل میں کل سرپلس شرکاء فنڈ میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔

تکافل ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے اور اپنا تزکیہء نفس کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ سورہ مائدہ آیت نمبر2 میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے "اور دیکھو نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔ اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں کسی کے ساتھ تعاون نہ کرو"۔ایک روایت میں ہے کہ "جو کوئی شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرتا ہے اللہ تعالی اسکی حاجتیں پوری کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالی ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو ضرورت کے وقت اپنے بھائیوں کی مدد کرتے ہیں (احمد و ابو داؤد)۔ مزید برآں، میثاق مدینہ میں تین پہلو ایسے ہیں جو کہ براہ راست خطرات سے پیشگی تحفظ سے تعلق رکھتے ہیں: انصار، یہود اور نصاری کا معاشرتی تحفظ، تیسری شق جس کا تعلق خون بہا اور دیت سے ہے اور فدیہ و عاقلہ کی شرائط۔ اسلئے ہمارے لئے مناسب یہ ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں اپنی ذاتی ضرورت کے ساتھ ساتھ اپنی معاشرتی ذمہ داریاں بھی پوری کریں۔

نہیں، تکافل کمپنیاں مروجہ انشورنس کے پریمیم کی شرح ہی سے عطیہ وصول کرتی ہیں۔ تکافل کو اپنانے کی صورت میں آپ کو زیادہ /اضافی اخراجات نہیں برداشت کرنے پڑیں گے۔

جی ہاں، تکافل کمپنیاں مروجہ انشورنس کمپنیوں کی طرح پروڈکٹ آفر کرتی ہیں چاہے وہ فائر کی پالیسی ہو یا پھر مرین و موٹر وغیرہ کی۔ مزید برآں ہمیں کلائنٹ کی کسی خاص ضرورت و فائدے کو مدنظر رکھ کر نئی پروڈکٹ و پالیسی بنانے کا بھی تجربہ حاصل ہے۔ تاہم ہم ایسی اشیاء و کاروبار کو خدمات فراہم نہیں کرتے جو کہ شرعی نقطہ نظر سے حرام ہوں مثلا شراب خانہ، جوا خانہ وغیرہ۔

تکافل میں کلیم مروجہ طریقہ کار ہی کے مطابق ادا کیا جاتا ہے جس کی تفصیلات معاہدے کے فارم (PMD)اور کمپنی کی ویب سائٹ پر موجود ہیں ۔

تمام تکافل کمپنیاں تکافل رولز کے تابع ہیں جو کہ کمپنی پر لازم کرتا ہے کہ وہ اچھی ساکھ کے حامل علماء کی زیر نگرانی اپنے تمام معاملات کو چلائیں ۔ مزید یہ کہ تمام کمپنیوں کا اکاؤنٹ آڈٹ کے ساتھ ساتھ سالانہ بنیاد پر شریعہ آڈٹ بھی کیا جاتا ہے۔

اسلام کی آمد سے قبل کے زمانے میں ہمیں ایسی کئی مثالیں ملتی ہِن جن میں جزیرہ نما عرب کے مختلف خاندان، قبائل اور جماعتون نے اپنے وسائل کو رضاکارانہ طور پر ضرورت مندوں کی مدد کی غرض سے ایک جگہ جمع کیا ہو۔ اس طرح کے معاملات کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف توثیق فرمائی بلکہ ابتدائی اسلامی ریاست کے قیام کے موقع پر اہنی بنیادوں پر کچھ ادارے بھی قائم فرمائے۔ لہذا یہ کہنا درست ہوگا کہ تکافل کی ابتداء مدینہ منورہ کے اسلامی معاشرے میں ہی ہوگئی تھی۔ اس نظام کی ابتدائی تشکیل ان خطرات کے پیش نظر کی گئی تھی جو کہ طویل بحری و بری سفروں میں تجارتی قافلوں کو لاحق تھے، اسلامی معاشرے میں اس سے ملتے جلتے نظاموں کی کچھ مثالیں درج ذیل ہیں:

  • حلف اتحاد و جماعت کی تشکیل
  • ضمان خطر الطریق
  • عاقلہ
  • فدیہ
  • دیوانیہ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک ہی ادارہ میں کام کرنے والے افراد کے درمیان باہمی تعاون و تناصر پر مبنی نظام

پاکستان کیلئے تکافل ایک نیا تصور ہے۔ دنیا میں پہلی تکافل کمپنی 1979 میں اسلامک انشورنس کمپنی کے نام سے سوڈان میں قائم کی گئی تھی۔ اسوقت دنیا کے بیس سے زائد ممالک میں 25 سے زائد تکافل کمپنیاں ہیں ۔

تکافل کا تصور اگرچہ بہت پرانا ہے لیکن لفظ تکافل نئے دور کی ایجاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ رسک منیجمنٹ اور باہمی تعاون سے متعلق قرآن و حدیث میں کئی احکامات و واقعات پاتے ہیں۔ موجودہ دور کے تکافل کا نظام فقہاء کرام کے اجتہاد کے ذریعے وجود میں آیا ہے۔

شریعت اسلامیہ کے دو قسم کے مآخذ ہیں:

الف: بنیادی مآخذ

  • • قرآن
  • • سنت و حدیث

ب: ثانوی مآخذ:

  • • اجماع
  • • قیاس

اجتہاد کے لغوی معنی کوشش و جد و جہد کے ہیں یا اپنی کوشش و صلاحیت کو بروء کار لا کر مآخذ شریعت سے قانونی قاعدے کا استنباط اجتہاد کہلاتا ہے؛ "اور جن لوگوں نے ہمارے راستے میں محنت کی ہم ان کو ضرور اپنے راستوں پر چلا دیں گے" (29:69)

اجتہاد وہاں کیا جاتا ہے جہاں کوئی واضح متن و حکم موجود نہ ہو۔ اسکے اہل باصلاحیت مسلم علماء ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اجتہادی رائے قابل بحث و مباحثہ ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ اس میں تبدیلی و بہتری آتی رہتی ہے جیسا کہ تکافل کے مختلف نظاموں (ماڈلز)سے ظاہر ہے۔

وہ سرگرمیاں جن کی نسبت بندہ اور خدا کے تعلق کی طرف کی جاتی ہیں عبادات کہلاتی ہیں اور جن سرگرمیوں کی نسبت بندوں کے بندوں سے تعلقات کی طرف کی جاتی ہے وہ معاملات کہلاتے ہیں۔یہ معاملات سیاسی، معاشی اور معاشرتی نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔

الحمد للہ اسلام میں اسکے مقرر کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے تنوع کی گنجائش موجود ہے۔ گزشتہ صدیوں میں تکافل کے کئی ماڈل وضع کئے گئے ہیں جو کہ علماء سے منظور شدہ ہیں۔ ان تمام ماڈلز کا بنیادی مقصد باوجود انکے قانونی ڈھانچے اور اداراتی سرگرمیوں کے معمولی اختلاف کے ، ہمیشہ باہمی طور پر رسک شیئرنگ ہی رہا ہے۔ ان ماڈلز کو عام طور پر اسلامی معاہدوں کے ناموں سے جانا جاتا ہے جیسا کہ ھبہ یا سو فیصد تبرع (سوڈان) یا مضاربہ (بحرین و ملیشیا) یا وکالہ (سعودی عرب ) یا وقف ماڈل (پاکستان)۔

تکافل رولز 2005 کے مطابق پاکستان میں تکافل کی مصنوعات وکالہ یا مضاربہ کے اصولوں پر یا پھر دونوں کے مجموعہ پر مبنی ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں تکافل کمپنیوں نے ایک قدرے بہتر ہائیبریڈ ماڈل یعنی وکالہ+مضاربہ+وقف ماڈل اپنایا ہوا ہے۔ یہ ایک ایسا ماڈل ہے جس میں فنڈ وقف ہونے کی حیثیت سے شخص قانونی متصور ہوتا ہے۔ اور شرکاء و آپریٹر (کمپنی) کا تعلق فنڈ کے ساتھ براہ راست ہوتا ہے۔ آپریٹر وقف فنڈ کے انتظام و انصرام کو وکالہ کی بنیاد پر انجام دیتا ہے اور وقف فنڈ کی سرمایہ کاری کو مضاربہ کی بنیاد پر کرتا ہے جبکہ شرکاء اپنے عطیات کے ذریعہ وقف فنڈ میں حصہ لیتے ہیں۔

مروجہ انشورنس میں ربا (سود) دو صورتوں میں پایا جاتا ہے: براہ راست ربا: پریمیم کی رقم اور بیمہ کی رقم کے درمیان ایک جانب ملنے والی اضافی رقم براہ راست ربا ہے۔ انشورنس پیسے کو پیسے کے بدلے کم یا زیادہ مقدار میں ادھار پر بیچنے کی مانند ہے۔ بالواسطہ ربا: سودی سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والا منافع۔ کمرشل انشورنس میں جمع شدہ فنڈ/پریمیم سے سودی سرمایہ کاری کی جاتی ہے اور موجود فنڈز سے سودی بانڈ، اسٹاک خریدے جاتے ہیں یا سودی بنکوں کے سیونگ اکاؤنٹ میں یہ رقم رکھ دی جاتی ہے اور اس سے حاصل منافع سے پالیسی ہولڈرز کے کلیم کی ادائیگی کی جاتی ہے۔

مروجہ انشورنس کمپنیوں کے برخلاف تکافل کمپنیاں اپنے فنڈز کو پراپرٹی، اسلامک بینک، شریعہ کمپلائنٹ اسٹاک اور شریعہ سے منظور شدہ سیکورٹیز مثلا سکوک وغیرہ میں لگاتی ہیں۔

نتیجہ کی یکسانیت کے باوجود کہ غرض تکافل و انشورنس سے نقصانات کی تلافی ہے، دونوں نظاموں میں اصل فرق طریقہ کار کا ہے۔ یہ تصور کہ "نتیجہ سے طریقہ کار کا جواز و عدم جواز معلوم ہوتا ہے" اسلامی تعلیمات کی رو سے صحیح نہیں اسلئے کہ اسلامی نقطہ نظر سے طریقہ کار اور نتیجے کا مستقل و جداگانہ طور پر صحیح ہونا ضروری ہے۔ مثلا مرغی کو ذبح کرنے اور بجلی کا جھٹکا دینے کا نتیجہ ایک ہی ہے یعنی مردہ مرغی لیکن نتیجہ کے اعتبار سے ذبیحہ حلال اور جھٹکے سے مرنے والی مرغی حرام ہے۔

پاکستان میں تکافل کمپنیاں صرف ری تکافل ہی سے معاملات کرنے کی مجاز ہیں جو کہ شریعہ گائیڈ لائنز کے مطابق ہی کام کرتی ہیں۔ اس حوالہ سے مشہور کمپنیاں تکافل ری، بی ای ایس ٹی ری، آسیان ری ہیں۔ مزید برآں، لیلوئڈ لندن کے تحت ایک ری تکافل سنڈیکیٹ کی تشکیل بھی ہو چکی ہے

روایتی انشورنس کے بالمقابل ایک اسلامی متبادل نظام کی تیاری کا کام 1982 ءمیں شروع ہوا تھا لیکن اس حوالہ سے پیش رفت انتہائی سست رفتار رہی۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے 1983ء میں متبادل اسلامی نظام کا جائزہ لینا شروع کیا۔ 1992ء میں کونسل نے اپنی جائزہ رپورٹ حکومت کو پیش کی لیکن اگلے آٹھ سالوں میں اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ اگست 2000ء میں انشورنس آرڈیننس 2000 کا نفاذ ہوا جس کے سیکشن 2 میں تکافل کی اصطلاح کی وضاحت کی گئی اور ملک میں تکافل کمپنیوں کے قیام کا راستہ ہموار ہوا۔ بالآخر 2005ء میں تکافل رولز 2005 کی شکل میں ریگولیٹری فریم ورک تیار ہو کر سامنے آئے اور اسکے کچھ عرصے بعد پہلی تکافل کمپنی وجود میں آئی۔

تکافل کے فوائد درج ذیل ہیں:

  • وسیع پروڈکٹ رینج
  • مسابقتی ریٹس
  • کلائنٹس کی بہترین خدمات
  • سرپلس شیئرنگ کا منفرد اختیار
  • اور سب سے بڑھ کر اپنے مسلمان بھائیوں کی بوقت ضرورت مدد کرنا جس کے بہترین اجر کا وعدہ اللہ تعالی نے کر رکھا ہے۔

تکافل کمپنی محض وقف فنڈ کے وکیل کے طور پر کام کرتی ہے۔ اگر سال کے آخر میں فنڈ میں کچھ اضافی رقم یعنی سرپلس بچ جائے (آمدنی سے اخراجات منہا کرنے کے بعد)تو یہ رقم شرکاء فنڈ کے ما بین ان کے سال بھر کے کلیم کو پیش نظر رکھ کر ایک خاص شرح سے تقسیم کر دی جاتی ہے۔

یہ کمپنی کی صوابدید پر ہے کہ ہر قسم کیلئے جداگانہ فنڈ بنائے یا پھر ایک ہی فنڈ تمام اقسام کیلئے بنادے۔سرپلس کا حساب کتاب کمپنی کے اختیار کردہ طریقہ کار کے مطابق ہی ہوگا۔

سرپلس کا حساب کتاب ماہانہ بنیاد پر ہوتا ہے۔ گزشتہ مہینے میں سر پلس کی شرح ہی موجودہ مہینے میں ختم ہونے والی پالیسیوں کے مقابل رقم کی واپسی کیلئے متعین ہوتی ہے۔

نہیں، فنڈ میں خسارہ کی صورت میں آپ سے مزید رقم کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا بلکہ شیئر ہولڈرز فنڈ سے قرض حسنہ کی بنیاد پر غیر سودی قرض لیا جائے گا اور مستقبل میں حاصل ہونے والے سر پلس سے اس قرض کی پیشگی ادائیگی کی جائے گی۔

اسلام کی طرح تکافل کا نظام بھی آفاقی ہے اور تمام انسانوں بشمول غیر مسلموں کیلئے قابل عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملیشیا و سری لنکا میں غیر مسلم بھی اس نظام کو کاروباری مناسبت، زیادہ شفافیت اور اعلی اخلاقی اقدار کی وجہ سے اختیار کر رہے ہیں۔